Social Issues

حب الوطنی کا خطرناک جال

حب الوطنی کا خطرناک جال

مقدمہ:

حب الوطنی کا شمار آج کے ان دھوکوں میں ہوتا ہے جن کے لیے ایک خاص طبقے کو ایک منظم کاوش کے تحت کسی انسان کے بچپن سے لے کر بلوغت تک مسلسل پراپیگنڈہ کرنا پڑتا ہے۔جس طرح دیگر غلط فہمیوں کو کلچر کا حصہ بنا کر اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ گویا وہ معاشرتی سچائی ہوں، اسی طرح ملکوں کے درمیان لگی  لکیروں کو بھی پیش کیا جاتا ہے، جس کو اگر کبیرہ غلط فہمی کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا۔ ایک ملک کے ساتھ انسان کا جو معاملہ ہونا چاہیے، اس پراپیگنڈے کو استعمال کرتے ہوئے اس سے الٹ معاملہ طے کروایا جاتا ہے۔ الغرض حب

الوطنی اب وطن کی عبادت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

حصہ اول: قرآن کے نظریے سے:

اصل مدعا بیان کرنے  سے قبل یہ بتانا چاہوں گا کہ

  • لفظ "مسلم" کا اردو میں مطلب "تسلیم کرنے والا" ہے۔
  • مزید یہ کہ الله تعالٰی نے قرآنِ حکیم میں فرمایا:

"اس سے بڑا ظالم کون ہو گا جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کی جائے اور پھر  وہ ان سے منھ پھیر لے، ایسے مجرموں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے"۔  (السجدہ: 22  – تفہیم القرآن)

لہذا، اب جو بیان کیا جا رہا ہے اس پر غور کیجیے۔۔۔

پہلا نقطہ ہے قرآن میں نظام کا  بیان:

 سورہ یوسف کی آیت نمبر 76 میں عزیزِ مصر کے شاہی قانون کے لیے "دین" کا لفظ استعمال ہوا ہے, یعنی دین نظام کی عربی اصطلاح ہے۔  

قرآن میں دو طرح کے نظام کا ذکر ہے:

ا۔ الله کا نظام

الله تعالٰی نے فرمایا: (بے شک)"الله کے نزدیک دین (نظام) صرف اسلام ہے ۔"   (آل عمرآن :19 – تفہیم القرآن)

ب۔ الله کے علاوہ کوئی بھی اور

الله تعالٰی نے قرآن مجید میں ان لوگوں کے متعلق جو رسول ﷺ کے بجائے کاہن اور نجومیوں سے رجوع کرتے تھے، فرمایا کی یہ طاغوت کے پیروکار ہیں۔ (سورۃ النساء: 60) ا

نیز اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ طاغوت کا مطلب شیطان ہے۔  (صحیح بخاری: 4583)

یعنی کوئی بھی ایسا نظام جو الله کا نازل کردہ نہ ہو وہ طاغوت ہے اور اس کا تعلق شیطان سے ہے۔

اور قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 256،257 [ب] سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح کفر کے مخالف  اسلام ہے، اس طرح اللہ کا مخالف  طاغوت ہے۔

اب دیکھیں کہ ہمارے ملک کا بھی ایک قانون ہے۔ یہ تو سچ ہے کہ ہمارا ملک الله کے نظام کے لیے بنا تھا مگر یہ بھی سچ ہے کہ اس میں الله کا نظام صرف بولنے کی حد تک ہے۔ ادھر سود، جوا [ج] وغیرہ "قانون" کا حصہ ہے۔لہذا پہلے نمبر پر تو یہ نظام ہی الله کا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس سے سماجی برائیاں پھیل رہی ہیں۔

دوسرا نقطہ ہے حاکم کی حیثیت:

 کسی بھی علاقے کا حاکم اس علاقے کو صرف روٹی، کپڑا اور مکان نہیں دے رہا ہوتا۔ بلکہ اس قوم کی ترقی، نفسیاتی حالت، ذہانت اور شعور وغیرہ بھی طے کر رہا ہوتا ہے۔ اسی لیے الله تبارک وتعالی نے قرآنِ حکیم  میں فرمایا: "جو لوگ الله کے نازل کردہ  قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہی کافر ہیں۔"  (المائدہ:44)

اب ذرا سوچیے کہ اگر تو آپ واقع قرآن کو حق مانتے ہیں تو آج کے حاکموں کی حقیقت کیا ہے۔

تیسرا نقطہ ہے حاکم کی اطاعت کی شرط:

 قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:

"اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں ، پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو، اگر تم واقعی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو ۔ یہی ایک صحیح طریقِ کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے۔"    (سورۃ النساء:59 – تفہیم القرآن)

& حدیث میں بھی الله کے نبی ﷺ فرماتے ہیں: اگر تم پر کان کٹا نکھٹا حبشی بھی حاکم بن جائے اور وہ تمھیں الله اور اس کے رسول کے طریقے پر رہنمائی کرے،تو اس کو سنو اور اطاعت کرو۔ (صحیح مسلم:4758،4762/ترمذی 1706)

(بد قسمتی سے ہمارے کچھ مفتی الله اور اس کے رسول کے راستے والا حصہ نہیں سناتے صرف اس وجہ سے کہ جو مخلص لوگ ہیں وہ تو سوال کر لیں گے)

اب ذرا ملک پر آئیں۔ ایک ملک لوگوں کے لیے بنایا جاتا ہے  مگر بعد میں اس کی اپنی سالمیت وجود پزیر ہو جاتی ہے۔

ایک مثال کے ذریعے سمجھیں۔

اگر میں اپنی حفاظت کے لیے ایک گھر بناؤں اور اس پر ایک محافظ کھڑا کر دوں۔ لیکن پھر یہ ہو کہ اس گھر کے فرش پر کوئی فرد تھوکے تو میں اس کو مار دوں (حالانکہ گھر کا مقصد ہی حفاظت تھا، اس کی اپنی سالمیت تو نہیں تھی)۔ پھر میں اس گھر کی طرف تمام گھر والوں کی قطار بنا کر تعریفیں کروں۔ پھر اس گارڈ کے متعلق یہ کہوں کہ یہ اگر اصول پر قائم رہے یا توڑے مجھے تو اس کی بات سننی اور ماننی ہے(حالانکہ میں اس کو پیسے دیتا ہوں)۔ تو دیکھیں مَیں کس قدر بے وقوف لگوں گا آپ کو۔

اسی طرح ملک ہے۔  یہ لوگوں کے لیے بنایا گیا ہے مگر حالت یہ ہے کہ لوگ وطن کے لیے مر رہے ہیں۔ وطن میں جو ادارے بنائے گئے ہیں، ان کو ٹیکس دیا جاتا ہے۔ لیکن، وہ سب لوگوں کی اقدار کے لیے نہیں بلکہ الٹا لوگوں کے لیے وبالِ جان بن چکاہے۔

آخری نقطہ: وطن کی پوجا:

ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچیں کہ قومی ترانے کی کیا ضرورت ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ جب آخری ایام میں تھے تو ایک بار لاٹھی پکڑ کر مسجد نبوی تشریف لائے، صحابہ کرام (تعظیم میں) کھڑے ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا:

اس طرح نہ کرو جس طرح اہلِ فارس اپنے سرداروں کے ساتھ کرتے ہیں ۔ (ابنِ ماجہ:3836 )

عجمیوں کی طرح نہ اٹھا کرو، جس میں کہ وہ ایک دوسرے کو تعظیم دیتے ہیں۔ (ابو داؤد: 5230)

رسولﷺ نے فرمایا ”جو شخص یہ پسند کرے کہ لوگ اس کے سامنے با ادب کھڑے ہوں تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے"  (ترمذی: 2755)

اب آپ سوچیں جس طرح ہم الله کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، قومی ترانہ پڑھتے ہوئے بھی تو اسی طرح ہوتے ہیں۔ گویا ایک ایسی چیز جو الله کے لیے تھی ،  نبیؐ اسے اپنے لیے نا پسند کرتے تھے (ترمذی 2754)اور   وہ ملک کو دے کر ہم نے ملک کو خدا کا درجہ دے دیا۔

ممکن ہے آپ اس جملے کو حد سے بڑھا محسوس کریں، مگر ایسا نہیں ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

×         جو لوگ اپنے نفس کی ماننے میں لگے ہیں ان کے متعلق الله تعالٰی نے فرمایا: کبھی تم نے اس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو؟ ۔(الفرقان:43،الجاثیہ:23)۔

×         پھر یہودی اور عیسائی اپنے حلال و حرام میں صرف بزرگوں کی مانتے تھے بجائے کتاب الله کی، تو الله نے فرمایا: انھوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو الله کے سِوا اپنا رب بنا لیا۔ (التوبہ: 31)

اب سوچیں کہ جب ہمارا قانون اور اخلاقی اقدار ملک سے آ رہے ہیں جو کہ الله کے قانون کے مطابق نہیں، تو سوچیں کیا ہم نے ملک کو خدا کا درجہ نہیں دے دیا۔

اللہ نے تو سورہ النساء کی آیت نمبر 75د میں حکم دیا ہے کہ مظلوم مردوں اور عورتوں  کو بچانے کے لیے قتال کرو، مگرچوں کہ   ملک کہتا ہے کہ اسرائیل کا بارڈر دور ہے  اور ہمارے پاس وسائل نہیں، اس لیے ہم نہیں جائیں گے تو پوری قوم اس کو مصلحت سمجھ کر مان لیتی ہے۔  یہ سوال نہیں کرتی کہ آپ نیٹو NATO کے کہنے پر جگہ جگہ خدمات دینے پہنچ جاتے ہیں ، خود شاہانہ زندگی بسر کرتے ہیں مگر ہمارے مطالبے پر وسائل کی کمی کا بہانہ بنا کر حرکت میں نہیں آتے حالاں کہ ادارے ہمارے ٹیکسوں سے چلتے ہیں۔

(حالانکہ ہم وہ بد بخت ہیں جنھوں نے کچھ دہائی قبل ہزاروں  فلسطینیوں کو شہید کیا تھا ادھر جا کر، جو کہ بارڈر نہیں تھا۔ اس کو بلیک سپتمبر کے نام سے پکارا جاتا ہے مگر پاکستانیوں کو پتا ہی نہیں) [ہ]    

قرآن کہتا ہے کہ دو مسلمانوں کے درمیان صلح کراؤ اور وہ بھی عدل [و]کے ساتھ۔ لیکن ہمارے ہاں ظالم اور مظلوم کی صلح کروا کر قرآن کا نام لگایا جاتا ہے اور چونکہ کفار کا اس میں مفاد ہے، وہ ہماری تعریف کرتے ہیں تو پوری قوم قرآن کو پڑھے بغیر کچھ حکومتی مولویوں کی سن کر خوش ہو رہی ہے۔ حالانکہ قرآن کا مدعا اس کے خلاف تھا۔ قرآن تو عدل کی بات کرتا ہے۔

حصہ دْوّْم: ملکی حالات پر ایک نظر

اس مرحلےمیں اس کی وجہ بتاتا ہوں کہ یہ سب پراپیگنڈہ آپ کے ساتھ بچپن سے کیوں کیا جا رہا؟

ذیل میں پاکستان سے متعلق کچھ اعداد وشمار ملاحظہ فرمائیں:

¬        معیارِ زندگی میں 193 میں سے 168 نمبر پر (اپنے خطے میں ایران،أفغان سمیت سب سے کم)[ز]

¬        45 فیصد یعنی دس کروڑ لوگ:  خطِ غربت سے نیچے [ح]

¬        1 کروڑ 10 لاکھ لوگ غذائی قلت کا شکار [ط]

¬        5 سال سے کم عمر 40 فیصد بچے جسمانی و ذہنی بڑھوتری سے نابلد [ی]

¬        2کروڑ 62 لاکھ بچہ سکول سے باہر (بلوچستان میں70 فیصد بچے سکول سے باہر ) [ک]

¬        32 فیصد مرد جب کہ 47 فیصد خواتین ان پڑھ   [ل]

¬        بجٹ میں صرف 0.8 فیصد حصہ تعلیم کے لیے مختص [م]

¬  صرف 2025 میں قریباً 7لاکھ62ہزار 499 لوگ پاکستان سے باہر جا چکے جن میں اکثر تعلیم یافتہ شامل ہیں۔ [ن]

¬        قانون میں 143 میں سے 130ویں نمبر پر [س]

¬        37فیصد لوگ ذہنی مریض ہیں [ع]

ان حالات کو دیکھ کر کس طرح ممکن ہے کہ ایک صاحبِ شعور انسان سوالات نہ کرے؟

قیادت کی تعریف کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا!!!

لیکن، حب الوطنی کے نام پر ایسا زہر پلایا گیا کہ لوگ ایک منشیات کے عادی کی طرح ہو چکے۔ الٹا جو دعوتِ شعور دیتا ہے اس کی مخالفت پر اتر آتے ہیں۔ جس طرح قصاب جانوروں کو قربان گاہ  کی طرف لے جائے تو ان کو شعور نہیں اسی طرح عوام الناس بھی اپنے لیڈران کے پیچھے دنیا و آخرت میں اپنا نقصان کیے جاتے ہیں۔

اپنے جذبات کو اپنی بڑھوتری اور ہدایت کے بجائے کچھ نعروں سے منسوب کر کے اس طرح ہو جاتے ہیں جیسے ایک منشیات کا عادی،نشہ آور شے دیکھ کر ہو جاتا ہے۔

جب تک اپنی ذہنیت عوام جیسی رکھیں گے، اپنی بربادی کا سامان ہی ہے جو آپ کر رہے/رہی ہیں۔ تبدیلی آپ کی ذہنی کیفیت سے شروع ہو گی۔اس کی سطح بلند ہو گی تو ہی آگے بڑھ پائیں گے۔  

حصہ سوم: ملکی ریاستوں کا آزاد جائزہ

تاریخی پس منظر

×  معاہدہ ویسٹ فیلیا :(1648)

اس نے موجودہ دور کےقومی ریاست(Nation-State) کے نظام کی بنیادرکھی۔[ف]

×  مصنوعی سرحدیں:

حکمرانوں نے ایسی لکیریں کھینچیں جنہوں نے پرانے ثقافتی اور نسلی گروہوں کو آپس میں تقسیم کر دیا۔

×  اقلیتوں کا استحصال:

ریاستوں نے متنوع آبادیوں پر زبردستی ایک زبان اور ایک مخصوص ثقافت مسلط کی۔

حب الوطنی کا کردار

×  تعصب کا فروغ:

اپنے ملک کو دوسرے ممالک سے برتر سمجھنے کی سوچ نے نفرت کو جنم دیا ہے۔

×  جذباتی استحصال:

رہنماؤں نے جھنڈوں، ترانوں اور فرضی کہانیوں کے ذریعے عوام میں اندھی وفاداری پیدا کی ہے۔

×  جنگوں کا جواز:

شہریوں کو ریاست کی خیالی سرحدوں کی حفاظت کے نام پر جنگوں میں جھونکا گیا ۔

اشرافیہ (Elite) کا مفاد

×  تقسیم کرو اور حکومت کرو:

اشرافیہ نے قومی شناخت کو استعمال کیا تاکہ دنیا بھر کے غریب عوام متحد نہ ہو سکیں۔

×  وسائل پر قبضہ:

اشرافیہ کے اپنے مالی فائدے کے لیے لڑی جانے والی جنگوں کو "قومی دفاع" کا نام دیا گیا۔

×  توجہ ہٹانا:

اندرونی معاشی بدحالی سے توجہ ہٹانے کے لیے بیرونی دشمنوں کا خوف پھیلایا گیا۔

تاریخی مثالیں

×  پہلی جنگ عظیم:

یورپی اشرافیہ نے اخبارات کے ذریعے قوم پرستی کا جنون پھیلایا جس کی وجہ سے عام شہریوں نے اپنے متبادل معاشی حقوق مانگنے کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف جنگ کو گلے لگا لیا۔

×  برطانوی راج:

برطانوی حکمران طبقے نے برصغیر پاک و ہند میں اپنی بقا اور وسائل پر قبضے کے لیے "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کی پالیسی کے تحت مذہبی اور قومی بنیادوں پر دوریاں پیدا کیں۔

×  نازی جرمنی:

ہٹلر اور اس کی اشرافیہ نے معاشی بحران سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے جرمن قوم کی برتری کا پروپیگنڈا کیا اور یہودیوں کو تمام مسائل کا ذمہ دار قرار دے کر ہولوکاسٹ برپا کیا۔

میڈیا کا کردار

×  بیرونی دشمن کا خوف:

ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا الگورتھم مسلسل پڑوسی یا حریف ممالک کے خلاف نفرت انگیز مواد کو وائرل کرتے ہیں تاکہ عوام میں "ہم بمقابلہ وہ" کا تاثر قائم رہے۔

×  کارپوریٹ ایجنڈا:

بڑے میڈیا ہاؤسز کی ملکیت اسی اشرافیہ کے پاس ہے جو ہتھیاروں کی صنعت یا بڑے کارپوریٹ اداروں کو چلاتے ہیں، اس لیے جنگی ماحول ان کے کاروبار کو فائدہ پہنچاتا ہے۔

×  سوشل میڈیا اور فیک نیوز:

فیس بک، ٹویٹر (X) اور ٹک ٹاک پر قوم پرستانہ جذبات کو بھڑکا کر ٹریفک حاصل کی جاتی ہے، جس سے معاشروں میں پولرائزیشن (سیاسی و سماجی تقسیم) گہری ہوتی جا رہی ہے۔

عوامی شعور کی بیداری

×  تنقیدی سوچ:  

شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ قوم پرستانہ نعروں اور خبروں کے پیچھے چھپے اشرافیہ کے سیاسی و معاشی مفادات کو پہچانیں۔

×  تاریخ کا آزادانہ مطالعہ:            

نصابی کتابوں کے سرکاری پروپیگنڈے کے بجائے تاریخ کا غیر جانبدارانہ اور عالمی تناظر میں مطالعہ کرنا سچائی کو واضح کرتا ہے۔

×  عالمی یکجہتی:       

موسمیاتی تبدیلی، معاشی ناہمواری اور وبائی امراض جیسے مسائل عالمی ہیں، جن کا حل سرحدوں کے بجائے باہمی تعاون میں ہے۔

×   ڈیجیٹل خواندگی:                

عوام کو سوشل میڈیا الگورتھم کی اس چال کو سمجھنا ہوگا جو سنسنی خیزی اور نفرت انگیز مواد کو زیادہ پھیلاتا ہے۔

متبادل ذرائع

×  آزاد صحافت:  

کارپوریٹ میڈیا کے مقابلے میں عوامی مالی تعاون سے چلنے والے میڈیا پلیٹ فارمز اشرافیہ کے ایجنڈے سے آزاد ہو کر سچ دکھاتے ہیں۔

×  عوامی پوڈ کاسٹ:

دنیا بھر کے مفکرین، فلسفیوں اور تاریخ دانوں کے پوڈ کاسٹ عام لوگوں تک بغیر کسی سنسر یا حکومتی فلٹر کے متبادل بیانیے پہنچا رہے ہیں۔

×  بین الاقوامی سماجی تحریکیں:

مختلف ممالک کے حقوقِ انسانی اور مزدور طبقے کے نیٹ ورکس آپس میں جڑ کر ریاستی اور قومی تقسیم کی نفی کر رہے ہیں۔


الغرض اس پراپیگنڈے کو انتہائی منظم کاوش کے ذریعے سے پھیلایا گیا۔ پہلے مسائل پیدا کیے، پھر ان کے حل کے نام پر اس سے بھی بڑا مسئلہ سامنے لایا گیا۔پھر اس کو قائم رکھنے کے لیے مزید مسائل پیدا کیے گئے۔

آپ خود سوچیں کہ ایک ایسی قوم جو ایک ارب بھی نہیں، اس نے دو ارب کے قریب مسلمان اور دو ارب سے ذیادہ عیسائیوں کو قابو کر رکھا ہے تو یہ ایک اتفاق نہیں ہو سکتا۔ اگر اکثریت کا راج ہوتا تو اکثریت غریب نہ ہوتی۔[ص

اگر آپ اس کہانی کو سمجھ چکے ہیں اور اس وقت ایک مسلمان کے طور پر اپنی ذمہ داری کو سنبھالنا چاہتے ہیں تو میں آپ کو اس کے متعلق بھی بتا سکتا ہوں، مگر وہ اتنی لمبی بات نہیں ہوگی  جتنی لمبی یہ بات ہے۔ کیوں کہ اِس بات میں تو ہمارے اپنے اندر کے بت ٹوٹے ہیں جو کہ مشکل مرحلہ ہے۔

 البتہ اگر آپ اب بھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان اسلامی ملک ہے اور جہاد کر رہا ہے، تو بس یہ سوچیں کہ لاکھوں لوگوں کے قتل عام کو بچانے القدس میں کیوں نہیں گئے؟؟؟  (ظاہری بات ہے ملکی مفاد کی وجہ سے، ایران پاس آبنائے ہرموز ہے جو فلسطین پاس نہیں)

حوالہ جات:

[ا]      سورۃ النساء: 60

اے نبی ! تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو دعوٰی تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں مگر چاہتے یہ ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لیے طاغوت کی طرف رجوع کریں ، حالانکہ انہیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا ۔ شیطان انہیں بھٹکا کر راہِ راست سے بہت دور لے جانا چاہتا ہے ۔ 

[ب]۔      سورۃ البقرہ: 256،257

 دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے ۔ صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے ۔ اب جو کوئی طاغوت  کا انکار

 کر کے اللہ پر ایمان لے آیا ، اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا ، جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ، اور اللہ﴿ جس کا سہارا اس نے لیا ہے﴾ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے ۔

جو لوگ ایمان لاتے ہیں ، ان کا حامی و مددگار اللہ ہے اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں ، ان کےحامی و مددگار طاغوت  ہیں اور وہ انھیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں ۔ یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں ، جہاں یہ 

ہمیشہ رہیں گے۔  

[ج] ۔  پاکستان میں قانون کے مطابق سود اور جوے سے کمائی گئی رقم پر ٹیکس لیا جائے گا۔ دیکھیے:

Income Tax Ordinance 2001, section 2 (29): Definition of Income (includes interest/profit on debt), Section 60: Zakat (paid out of interest), ...

&

 Income Tax Ordinance 2001, section 19(2): Definition of Speculation Business 

[د]   سورۃ النساء : 75

آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں ، عورتوں اور بچّوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پا کر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں ، اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار  پیدا کر دے ۔      

[ہ]        https://en.wikipedia.org/wiki/Black_September ،  https://youtu.be/ngU4AFt6lI4           

[و]  سورۃ الحجرات: 9 .  اور اگر اہلِ ایمان میں سے دو گروہ اپس میں لڑ جائیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ سے ذیادتی کرے تو ذیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ  اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے۔ پھر اگر وہ پلٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو۔ اور انصاف کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

 

[ز]         https://share.google/crClV2ZWXbkAwvoPt                     

[ح]   https://share.google/Mmo1u3wnF4beglWFh ،  https://share.google/KqM4HJOaCsYyQuwYP  

[ط]    https://share.google/nNO4ak06jfv29F3sl ،https://share.google/2OKliao2P0m0h5Mj9

، https://share.google/Tn9ChzEa0K0AUTqEM ، https://share.google/wuJzvADuhd7zfkZvL      

[ی]       https://share.google/KdA1CwrM8Q7vwbCVw        

[ک]    https://share.google/1on9TFNEq0vtUCFkS ، https://share.google/3XD6yS9JUlBsmhRCx

،   https://share.google/HtcVDGfH2pnpY2Eui 

[ل]  https://share.google/7QBkPlnHTQn8VG5sw

، https://share.google/0S0BTvwrh2RjrUHEg ، https://share.google/OeJsHepBPNymvhehc 

[م] https://share.google/B1AICWKoBb506R1jd ،     https://www.dawn.com/news/1916136

،   https://www.unicef.org/pakistan/education  

[ن]     https://beoe.gov.pk/reports-and-statistics ،https://share.google/2TQtV0wuJqY3i5fxy  ،

https://tribune.com.pk/story/2589462/pakistanis-exodus-termed-boon-for-economy  

[س]       https://share.google/gDXps0lpYDVkfoizt                                         

[ع]          https://share.google/6pSunq2EVO3FNdD32          

[ف]      https://share.google/bawTD0MVSqXNR6AYA

[ص]     https://share.google/HFuLv0iE2x6E4ubAF             


Comments (0)

Leave a comment

Comments are reviewed before they appear publicly.

Log in if you are a community member.